غالب کے مشہور اشعار

غالب کے سینکڑوں اشعار مشہور ہوئے ہیں،یہاں پہ کچھ اشعار اکٹھے کئے گئے ہیں ،امید ہے پسند فرمائیں گئے

نقش فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالب یار لاۓ مری بالیں پہ اسے، پر کس وقت لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں اچھاّ اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد بارے آرام سے ہیں اہلِ جفا میرے بعد چھوڑوں گا میں نہ اس بتِ کافر کا پوجنا چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافَر کہے بغیر ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھّے کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور تو اور آرائشِ خمِ کاکل میں اور اندیشہ ہاۓ دور دراز آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک کون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک مجھ کو دیارِ غیر میں مارا، وطن سے دور رکھ لی مرے خدا نے مری بےکسی کی شرم تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو ہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں مہرباں ہو کے بلالو مجھے، چاہو جس وقت میں گیا وقت نہیں ہوں‌کہ پھر آ بھی نہ سکوں ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن غالب اپنا یہ عقیدہ ہے بقولِ ناسخ ’آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میر نہیں‘ بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں غالب چُھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالب تم کو بے مہرئ یارانِ وطن یاد نہیں؟ دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہُوں میں کیوں گردشِ مدام سے گبھرا نہ جائے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہُوں میں سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں! دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟ روئیں گے ہم ہزار بار ۔کوئی ہمیں ستائے کیوں؟ ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہوں دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟ مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسد عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے مارا زمانے نے اسداللہ خاں تمہیں وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے حورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے اے ساکنانِ کوچۂ دل دار دیکھنا تم کو کہیں جو غالب آشفتہ سر ملے دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟ آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟ ہم ہیں مشتاق اور وہ بےزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے اے تازہ واردانِ بساطِ ہواۓ دل زنہار اگر تمہیں ہوسِ ناۓ و نوش ہے دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے عشق نے غالب نکمّا کر دیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے نکتہ چیں ہے ، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے کیا بنے بات ، جہاں بات بنائے نہ بنے کہا ہے کِس نے کہ غالب بُرا نہیں ، لیکن سوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے ، کیا کہیے بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے " تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟ ابنِ مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی جب توقع ہی اٹھ گئی غالبٓ کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے کہاں میخانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظ پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے جوشِ قدح سے بزم چراغاں کئے ہوئے غالب ہمیں نہ چھیڑ، کہ پھر جوشِ اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیّۂ طوفاں کئے ہوئے