داغ دہلوی

داغ دہلوی کا شمار اردو کے اہم ترین شعراء میں ہوتا ہے،داغ دہلوی نے بہت عمدہ شاعری کی،ذیل میں ان کی چند مشہور غزلیں پیش کی جارہی ہیں

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہيں

غضب کيا تيرے وعدے کا اعتبار کيا

يہ قول کسي کا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا

کس نے کہا کہ داغ وفا دار مرگيا

کيا ذوق ہے کیا شوق ہے سو مرتبہ ديکھوں

ستم ہي کرنا جفا ہي کرنا نگاہ الفت کبھي نہ کرنا

آپ کا انتظارکون کرے

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

بھنویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں

بہت ہی مختصر تھا وصل کا دن

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں

ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے

کب وہ چونکے جو شراب ِ عشق سے مستانہ ہے

کچھ آپ کو بھی قدر ہماری وفا کی ہے

کہا نہ کچھ عرض ِ مدعا پر

کہتے ہیں جس کو حور وہ انسان تمہیں تو ہو

مانا کہ لطف عشق میں ہے ہم مگر کہاں

نہ آیا نامہ بر

نہ ہوا یوں گنا ثواب کے ساتھ

بڑا مزا ہو اگر یوں عذاب ہو واعظ

وہ جلوہ تو ایسا ہے کہ دیکھا نہیں جاتا

یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

یاں دل میں خیال اور ہے واں منظر اور

یوں چلیے راہ ِ شوق میں جیسے ہوا چلے

یہ دل لگی بھی قیامت کی دل لگی ہو گی


daag dehlvi ghazals
a ghazal by daag dehlvi
daag dehlvi
daag | kiya zouq hai
daag dehlvi poetry
daag | aarzu hai wafa