علامہ اقبال کے مشہور اشعار

علامہ اقبال کے سینکڑوں اشعار مشہور ہوئے ہیں،علامہ اقبال کے سارے کلام میں سے شاذ ہی آپ کوئی ردی شعر نکال پائیں،یہاں پر اقبال کے مشہور اشعار پیش کیئے جا رہے ہیں

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تيغ، فساں لا الہ الا اللہ ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں اقبال کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری یا رب دِل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے ستاروں سے آگے جہاں اور بھي ہيں ابھي عشق کے امتحاں اور بھي ہيں ر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہو کر عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں آنکھ جو کچھ دیکھتى ہے‌, لب پہ آسکتا نہیں محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گى انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں تو میرا شوق دیکھ ، مرا انتظار دیکھ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے تُو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا میں ہی تو ایک راز تھا، سینۂ کائنات میں خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے مٹا ديا مرے ساقی نے عالم من و تو پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ھو' ہزار خوف ہو ليکن زباں ہو دل کی رفيق يہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طريق عقل گو آستاں سے دور نہيں اس کی تقدير ميں حضور نہيں نگاہ فقر ميں شان سکندری کيا ہے خراج کی جو گدا ہو ، وہ قيصری کيا ہے کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی گستاخ ہے ، کرتا ہے فطرت کی حنا بندی خاکی ہے مگر اس کے انداز ہيں افلاکی رومی ہے نہ شامی ہے ، کاشی نہ سمرقندی سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی کريں گے اہل نظر تازہ بستياں آباد مری نگاہ نہيں سوئے کوفہ و بغداد لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے ميرا مقام اے ساقی یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مؤمن قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا الله کھول آنکھ ، زمیں دیکھ ، فلک دیکھ ، فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو آئے عشاق ، گئے وعدۂ فردا لے کر اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر کبھی ہم سے ، کبھی غیروں سے شناسائی ہے بات کہنے کی نہیں ، تو بھی تو ہرجائی ہے امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے ، بھولے بھالے ہیں